Awam or khawas me ye bat bohot mashhur he ke “ vatan ki mohabbat iman ka hissa he” hadis e nabwi he, bohot se bayan karne wale bhi isko bayan karte he, is hadis ke bare me tamam muhaddiseen ne ise mozoo (man ghadat, banawati) kaha he, har shakhs ko apne vatan se mohabbat huwa karti he, is etebar se bat to sahi he, lekin hadis nahi he, baz muhaddiseen ne farmaya ke ye buzrugo ka kol (kahawat) he.

[margubul fatawa]

 

حب الوطن من الایمان حدیث ہے؟
عوام و خواص میں بہت مشہور ہے کہ (حب الوطن من الایمان) یعنی وطن کی محبت ایمان کی علامت ہے ،حدیث نبوی ہے۔واعظین و مقررین بھی دوران بیان اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کر دیتے ہیں۔
بعض اہل علم کو اصرار ہے کہ یہ حدیث ہے ،حالانکہ ان کی تحقیق میں یہ بات آچکی ہے کہ محدثین نے اس جملہ کے متعلق صراحت فرمادی کہ یہ حدیث نہیں ہے اور راقم نے عصبیت پسند حضرات سے اپنی حب وطنی پر اس حدیث کو استدلال میں سنا بلکہ فخریہ انداز اپناتے دیکھا ہے ’’اعاذنا اللہ‘‘۔
لہذا مناسب معلوم ہو اکہ اس جملہ کے متعلق محدثین کی عبارات کو جمع کروں !کیا بعید ہے اللہ تعالی اس مختصر مضمون کو ذخیرۂ نجات بنادے ۔
محدثین کی تصریحات
شیخ محمد ابن سید درویش الحوت ؒ ( م ۱۲۷۶ھ تلمیذ علامہ شامیؒ ) تحریر فرماتے ہیں:حب الوطن من الایمان حدیث موضوع۔
ملا علی قاری ؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’حدیثحب الوطن من الایمان قال الزرکشی: لم اقف علیہ وقال السید معین الدین الصفوی ؒ لیس بثابت وقیل انہ من کلام بعض السلف وقال السخاویؒ: لم اقف علیہ ومعناہ صحیح ‘‘۔
علامہ منوفی ؒ نے اس پر اعتراض کیا ہے :
’’قال المنوفی ماادعاہ من صحۃ معناہ عجیب ‘‘( والبسط فی الموضوعات)
مگر ملا قاری ؒ فرماتے ہیں :’ومعناہ صحیح‘‘ اس کا معنی صحیح ہے ۔
آگے تحریر فرماتے ہیں:
’’ثم الاظہر فی معنی الحدیث ان صح مبناہ ای یحمل علی ان المراد بالوطن الجنۃ‘‘۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وطن سے مراد جنت ہو۔
دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’واما حدیث (حب الوطن من الایمان) فموضوع وان کان معناہ صحیحا لا سیمااذا حمل علی ان المراد بالوطن الجنۃ فانھا المسکن الاول‘‘ ۔
صاحب کشف الخفاء تحریر فرماتے ہیں:
حب الوطن من الایمان   قال الصغانی: موضوع۔

علامہ سیوطی ؒ فرماتے ہیں:
’’حدیث  حب الوطن من الایمان لم اقف علیہ ‘‘ ۔
علامہ سخاوی ؒ رقمطراز ہیں : ’’لم اقف علیہ‘‘ ۔
علامہ عبد الرحمن الشیبانی ؒ تحریر فرماتے ہیں: ’’حدیث  حب الوطن من الایمان قال شیخنا: لم اقف علیہ ومعناہ صحیح‘‘ ۔
حضرت مفتی محمودحسن صاحب گنگوہی ؒ صاحب فتاوی محمودیہ ؒ تحریرفرماتے ہیں: اس جملہ کا حدیث ہونا ثابت نہیں ،ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت ہوا ہی کرتی ہے ا س اعتبار سے اس کے معنی کو صحیح کہا ہے ۔
حضرت مولانا محمد یونس صاحب شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور تحریر فرماتے ہیں: حب الوطن من الایمان زبان زد ہے اور حضرت مجدد الف ثا نی ؒ نے ایک مقام پر حدیث کرکے لکھا ہے ،لیکن یہ لفظ ثابت نہیں ۔
حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب ؒ تحریر فرماتے ہیں:  حب الوطن من الایمان یعنی وطن کی محبت علامت ایمان کی ہے۔حدیث نہیں ہے،بعض سلف صالحین کا کلام ہے ،چونکہ حب وطن حضو ر ﷺ میں بھی پائی گئی ہے اور آپ ﷺ نے مختلف مواقع میں وطن کی محبت متعدد احادیث میں ظاہرفرمائی ہے، اس لئے اس صفت کا محمود ہونا اور منجملہ علامات و اخلاق ایمانی ہونا یقینی ہوا۔
(مرغوب الفتاوی)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here