Home / عقائد و ایمانیات / ادیان و مذاہب / کیا سالِ نو کا آغاز خوشی کا موقع ہے؟
کیا سالِ نو کا آغاز خوشی کا موقع ہے؟
کیا سالِ نو کا آغاز خوشی کا موقع ہے؟

کیا سالِ نو کا آغاز خوشی کا موقع ہے؟

کیا سالِ نو کا آغاز خوشی کا موقع ہے؟

خوشی منانے کے معتدل سنجیدہ اور مہذ ب طریقہ پر بات کرنے سے قبل خود اس بات پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آیا یہ اس قدر خوشی منانے کاموقع ہے بھی یا نہیں ؟

کیا نبی کریمﷺ نے نئے سال کا جشن منایا تھا؟ کیا صحابہ کرامؓ نے آپس میں ایک دوسرے کو ہپی نیو ائیر (happy new year)کی مبارک باد دی، کیا تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس رسم کو منایا گیا؟ کیا دیگر مسلمان حکمرانوں نے اس کے جشن کی محفلوں میں شرکت کی؟ حالانکہ اس وقت تک اسلام ایران، عراق، مصر، شام اور مشرق وسطی کے اہم ممالک تک پھیل چکا تھا، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر عقل مند شخص نفی میں دے گا، پھر آج کیوں مسلمان اس کام کو انجام دے رہے ہیں ؟

آخر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ رات 11:59PMسے 12:00AMکے درمیان صرف ایک منٹ کا فاصلہ ہے ،سوال یہ ہے کہ اس ایک ساعت میں دنیا میں کون سی ایسی عجیب تبدیلی واقع ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہیں اور عجیب وغریب غیرسنجیدہ حرکات پر اتر آتے ہیں ۔۔۔۔۔؟چلئے ہو کچھ دیر کیلئے انگڑائی لینا ہے کہ آیا ہماری مذہبی تعلیمات،پاکیزہ روایات اور صاف ستھرا تمدن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم نئے سال کا اس اندازمیں استقبال کریں ؟یقینا جواب نفی میں ہوگا ،یہ طرز عمل ہماری تعلیمات اور روایات سے ذرہ برابر میل نہیں کھا تا ، ہماری دینی تعلیمات اسلاف کی زندگیاں تو یہ بتاتی ہیں کہ کسی بھی کام کے آغاز میں اپنے خالق حقیقی کو یا د کرنا چاہئے ،بحیثیت انسان اپنے معاشرتی و اخلاقی اور دینی فرائض کی تن دہی اور دیانت داری سے ادائیگی کا مخلصانہ عزم کرنا چاہئے ،سال نو کی ابتداء میں مالک حقیقی کے سامنے سر بسجود شب گزاری انسانوں کی بھلائی اور فلاح کی جانب ہماری توجہ کیوں نہیں جاتی؟ہم یہاں یہ نیک فال کیوں نہیں لیتے کہ چلو سال کا پہلا دن ہے کوئی اچھا عمل کرلیتے ہیں تاکہ سال بھر اس کی توفیق ملتی رہے ایک یہ بھی اصول ہے جو ہر وقت ملحوظ نظر رہنا ضروری ہے ،وہ یہ کہ ہم اپنے تمدن اور تہذیبی اقدار کو تعلیمات اسلام کی چھلنی سے چھان کر اپنائیں ،جو ہماری ثقافت ہمارے دین کی ارفع تعلیمات وہدایات سے متصادم ہوں تو اس کے اپنا نے میں بظاہر کو ئی مانع نہ ہونا چاہئے ،رہا مسئلہ مغربی تمدن اور اجنبی ثقافت کی اندھی تقلید کا تو یہ افسوسناک ہے ،اسکا بڑا اور بنیادی سبب ہمارے اند ر پایا جانے والا احساس کمتر ی ہے ،انگریز بر صغیر پر ایک طویل عرصہ حکمرانی کے بعد واپس انگلستان چلاگیا ،مگر یہاں کے باشندوں پر اسکا فکری رعب تاحال قائم ہے اپنے خالص اور صاف ستھر ے تمدن کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اور مغربی انداز زیست کو قابل فخر سمجھنا دراصل اسی فکری بیماری کا نتیجہ ہے جسے اہل درد نے خوئے غلامی کہاہے مغربی کلچر کی بالادستی اور اسکے رجحان میں تیز رفتار اضافے کا ایک اور بڑاسبب میڈیا ہے ،میڈیا بالخصوص اس مہم میں سرگرم ہے ،اور ہم سادہ لوح عوام چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے سرپٹ بھاگنا شروع کردیتے ہیں ۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *