السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعد سلام مسنون حضور رب جناب والا کی عافیت محبوب و مطلوب ہے، بعدہ:-

کیا فرماتے ہیں مفیتان شرع متین مسئلۂ ذیل کی بابت کہ آج کل مساجد میں اوقات نماز کے لۓ الیکٹرونک آلات نصب ہیں جن سے اقامت صلوۃ کے اعلان کے لۓعین وقت اک بیپ بجتا ہے اورامام ،مؤذن اور تمام مقتدی حضرات اس آواز پر صف بستہ ہوجاتے ہیں یا اقامت صلوۃ کے لۓ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو کیا اس طرح کیجرس نما صوت کو اقامت صلوۃ کے لۓ استعمال درست ہوگا؟؟؟

نیز کیا یہ مخالف سنت عمل نہ ہوگا؟؟ اس کی بنا پر بادئ النظر میں تکبیر کا کوئ مصرف ہی نہیں رہ جاتا ہے،

سوال بالا کا جواب عنایت فرماکر ممنون مشکور فرمائیں ،

فجزاکم اللہ احسن الجزاء  والسلام مع الکرام  , محمدمدثر عفی عنه


الجواب:حامداومصلیاومسلما:-

 نماز کی اطلاع کے لئے تو اذان و اقامت ہی مشروع ہے، اس کا بدل کوئی چیز ہو سکتی نہ بنانا جائز ہے.   آج کل  اکثر مساجد میں ایسی گھڑیاں لگائی گئی ہیں، جس میں اقامت کا وقت ہوتے ہلکی سی بیپ کی آواز آتی ہے جس میں عرفا وفنا کوئی سرور نہیں ہوتا، یہ بیپ کی آواز اقامت کا وقت ہونے کی اطلاع دیتی ہے، اس کے بعد مؤذن صاحب اقامت کہتے ہیں،لہذا اسے اقامت کا بدل نہیں کہا جاسکتا، البتہ لوگوں کو چاہئے کہ جب اقامت کہی جائے تب نماز کے لئے کھڑے ہوں. البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ آواز بہت اونچی نہ ہو کہ نمازیوں کو خلل ہو.           حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسجد کے اندر گھنٹہ دار گھڑی بغرض اعلام وقت کے جائز ہے اور چونکہ بعض لوگ بینائی کم رکھتے ہیں بعضے نمبر نہیں پہچانتے اور بعض دفعہ روشنی کم ہوتی ہے اسلئے ضرورت ہوتی ہے آواز دار گھڑی کی ، تو اس مصلحت سے یہ جرس ممنوع سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ عالمگیریہ میں بعض فروع اس قسم کی لکھی ہیں اور حدیث میں تصفیق کی اجازت عین صلاۃ میں مصلحت کیلئے دلیل بین ہے، مشروعیہ صورت جس میں متقارعین لمصلحۃ الاعلام المتعلق بالصلوٰۃ کی۔

(امداد الفتاویٰ ص۷۱۹ جلد۲ باب احکام المساجد)

فقط والله تعالى أعلم وعلمہ اتم واحکم.

مفتی جنیدبن محمدعفی عنہ پالنپوری

 

Subscribe Ke Bad Apne Email Me jakar Verifide Zarur kare. Shukriyah

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here