محترم مفتی جنید صاحب  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

  سی سی ٹی وی کیمرہ سے متعلق آپ سے شرعی حکم معلوم کرنا ہے،    آج کل دوکانوں فیکٹریوں اور شوپنگ سینٹروں اور گھروں سے بڑھکر مساجد اور مدارس میں بھی نگرانی کی غرض سے اسکا استعمال ہوتا ہے اور چونکہ بہت سی جگہوں پر تو قانونی حیثیت بھی حاصل ہے، اس سلسلے میں ایک مضمون ماہنامہ صوت القرآن احمد آباد کے آگست2016  کے شمارے میں حضرت مفتی عبد القیوم صاحب جامعہ ڈابھیل کے حوالے سے شائع ہوا اور حضرت نے اس میں دلائل کے ساتھ مساجد اور مدارس میں خصوصیت کے ساتھ سی سی ٹی وی کا استعمال کو ناجائز قرار دیا ہے، اور چونکہ آنجناب کے قلم عصری مسائل بڑی شاندار تحقیقات منظر عام پر آئی ہے لھذا امید ہے کہ اس مسئلے پر بھی تشفی بخش جواب مرحمت فرمائیں گے.                     عمارمنصوری گجراتی


الجواب:حامداومصلیاومسلما:-

اس مسئلہ میں علمائے ربانیین کا آپس میں اختلاف ہے،دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارن پور، جامعہ ڈابھیل،  جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ،جامعہ فاروقیہ ،جامعہ خلفائے راشدین اور دیگر مدارس کے مفتیان کرام کے نزدیک مطلقا تصویر حرام ہے، جس میں ڈیجیٹل تصویر بھی شامل ہے، جبکہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم ، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کے علاوہ دارالعلوم کراچی ،جامعہ بنوریہ العالمیہ، جامعۃ الرشید اورکئی مدارس کے جید مفتیان کرام اور ہندوستان سے حضرت  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی وغیرہم کی رائے یہ ہے کہ  ڈیجیٹل کیمرہ سے لی گئی تصویر برقی شعاؤں کے ذریعہ ابھرنے والا نقش ہے، یہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے لہذ جائز ہے البتہ اس کا پرنٹ نکالا جائے تو اب یہ تصویر ہی کہلائیگا.     اس سے کسی کو انکار نہیں کہ حفاظتی تدابیر میں کمیرہ کو خاص اہمیت حاصل ہے،  انسانی نگرانی سے زیادہ بہتر طور پر سی سی ٹی وی کیمرہ نگرانی کر لیتا ہے، محکمہ پولیس کے بیان کے مطابق جن علاقوں اور جگہوں میں کیمرے نصب کئے گئے ہیں ان علاقوں میں چوری، ڈکیتی نیز دیگر مجرمانہ وارداتوں میں واضح طور پر کمی آئی ہے، اور اگر واردات ہو بھی جاتی ہے تو مجرموں تک پہونچنا آسان ہو جاتا ہے، عدالتیں بھی ان کیمرہ میں محفوظ فوٹیج کو ثبوت مانتی ہیں.      بڑے شہروں میں محکمہ پولیس حساس جگہوں پر کیمرہ نصب کرنے کا مشورہ دیتی ہے  اور کبھی حکم کرتی ہے،خاص طور پر مذہبی مقامات پر.     تجربہ ہے کہ چوروں اور مجرموں کے لئےمسجدوں کی چندہ پیٹی سے رقوم کا چوری کرنا، نیز مصلی حضرات کے جوتے، چپلوں پر ہاتھ صاف کرنا، جماعت کی نماز میں سجدہ میں گئے مصلیوں کے فرش پر رکھے موبائل آسان اہداف میں سے تھا، مگر جب سے سی سی ٹی وی کیمرہ نام والی تیسری آنکھ لگائی گئی مسجدوں کی چندہ پیٹی، مصلی حضرات کے موبائل نیز جوتے چپل محفوظ ہوگئے.    ان سب چیزوں سے بڑھکر یہ کہ   آج کل جس طرح کے ناگفتہ بہ حالات ملک میں چل رہے ہیں کہ مسجدوں اور عبادت گاہوں میں گھس کر شر انگیزی کی جارہی ہے، بل کہ مار پیٹ کے واقعات سامنے آرہے ہیں، ان واقعات کے بعد عوام کی طرف سے موبائل کے کیمروں میں محفوظ فوٹیج کے ذریعہ ہی ان تک رسائی آسان ہوئی ہے، لہذا دینی اور ان جیسی دنیاوی ضرورتوں کی خاطر ان حضرات کی رائے پر عمل کی گنجائش ہوگی جو ڈیجیٹل کمیرہ کی تصویر کو جائز کہتے ہیں. یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ناگزیر حالات میں پرنٹ تصویر کے تمام قائل ہیں جیسے پاسپورٹ و دیگر سرکاری کاغذات کے لئے تصویر اٹھانا.       البتہ شوقیہ فلمیں  جیسے شادی بیاہ ودیگر تقریبات کی فلمیں اور  وہاٹس ایپ و ای میل وغیرہ کی پروفائل اور ڈی پی وغیرہ پر لگانے کے لئے جاندار کی فوٹو اٹھانے  کی اجازت نہ ہوگی،اس وقت ان حضرات کے قول پر عمل کیا جائے جو ڈیجیٹل کیمروں کی تصویر کو بھی ناجائز کہتے ہیں. فقط والله تعالى أعلم وعلمہ اتم واحکم.

کتبہ : مفتی جنید بن محمد عفی عنہ پالنپوری

 

Subscribe Ke Bad Apne Email Me jakar Verifide Zarur kare. Shukriyah

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here