آپ کتابوں کا مطالعہ کیسے کریں؟

(ایک مفید تجرباتی تحریر)

از قلم: محمد زبیر ندوی

علم و مطالعہ کا صحیح ذوق ایسی خدائی نعمت ہے جو کم ہی خوش نصیبوں کو ملتی ہے، یہ ذوق انسان کو آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے علم و فہم میں روز بروز اضافہ کرے اور نت نئے جواہر پاروں سے دامن ظرف کو بھرتا جائے؛ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کونسا طریقہ کار اختیار کرے کہ مطالعہ مؤثر اور ثمر آور ہو، مطالعے کے نتائج و فوائد ذہن و دماغ میں اس قدر راسخ ہوجائیں کہ وہ بہت حد تک مستحضر رہیں، اور انسان اپنی تحریر و بیان میں بر ملا اسے برت سکے؛ اس لئے مطالعہ کے تئین مندرجہ ذیل چند مفید اور مبنی بر تجربہ باتیں پیش خدمت ہیں؛ ممکن ہے کسی بندے کی علمی ترقی کا ذریعہ بن جائیں:

پہلی بات: اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ آدمی کو کسی ایسے خاص فن کا انتخاب کرنا چاہئے جو اس کے ذوق و طبیعت کے مطابق ہو اور ذہن قبول کرنے پر آمادہ ہو، ایک ہی وقت میں کئی کئی فنون کی کتابیں پڑھنا مضامین کے استحضار میں خلل پیدا کر سکتا ہے، مثلا آپ کا ذہن اگر ادبی ہے تو ادبیات کو اپنا موضوع بنایئے، یا فقہی ہے اور ذہن مسائل فقہیہ کی جانب مائل ہے تو فقہیات کو اپنا موضوع بنایئے اور اس پر مطالعہ کو اپناموضوع بنایئے۔

دوسری بات یہ کہ اپنے علم و مطالعہ کا جائزہ لیجیے کہ جس فن کی جانب آپ کا ذہن مائل ہے اس کے بارے میں آپ کی معلومات کیا ہیں؟ کیا آپ اس کی بنیادی باتوں سے واقف ہیں؟ یا آپ کا علم و مطالعہ متوسط ہے؟ یا اس فن کی اعلی معلومات آپ کو درکار ہیں؟

تیسری بات یہ کہ اپنے جائزہ کے بعد آپ طے کیجئے کہ اب آپ کو کونسی کتاب پڑھنا چاہئے، مثلا آپ کا ذہن سیرت کی جانب مائل ہے اور اس سے آپ کو لگاؤ ہے، اور آپ کو بنیادی معلومات نہیں ہے، یا کم ہے؛ تو اس سلسلے میں بنیادی معلومات کے لئے “رحمت عالم” از سید سلیمان ندوی “نبیء رحمت” اور سیرت رسول اکرم” از علی میاں ندوی “سیرت رسول کریم” از حفظ الرحمن سیوہاروی “در یتیم” از ماہر القادری کا مطالعہ کرنا چاہئے، یا آپ کو سیرت سے متعلق بنیادی معلومات ہیں تو آپ  کو “رحمة للعالمين کامل” از قاضی سلیمان منصورپوری “سیرت حلبیہ اردو”، “ولادت نبوی” از ابو الکلام آزاد “النبی الخاتم” از مناظر احسن گیلانی پڑھنا چاہئے، اور اگر آپ کو کافی معلومات ہے لیکن تحقیقی علم مطلوب ہے؛ تو “سیرت النبی” از شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی “سیرت المصطفی” از ادریس کاندھلوی اور ڈاکٹر حمید اللہ  صاحب کی بعض کتابیں بے حد مفید ہوسکتی ہیں۔ نیز اس سلسلے میں کسی صاحب علم اور علم و مطالعہ کے شائق با ذوق سے مشورہ اور کتابوں کا انتخاب بے حد مفید ہوسکتا ہے۔

چوتھی بات: کتاب کے انتخاب کے بعد اس کا مطالعہ اس انداز میں کیا جائے کہ گویا وہ پہلی بار اور آخری بار پڑھی جارہی ہے، یہ بات ذہن نشین رہنا نہایت ضروری ہے؛ کہ مطالعہ اس بھروسے پر سرسری نہ کیا جائے کہ دوبارہ پھر پڑھنا ہے، یا آئندہ پھر پڑھ لیں گے، اکثر حضرات کا علم اسی لئے ناقص رہتا ہے کہ ہر کتاب کو سرسری طور پر لیتے ہیں اور آئندہ کی امید پر پڑھتے چلے جاتے ہیں اور کتاب ختم ہونے کے بعد علاوہ چند سرسری معلومات کے کوئی ٹھوس اور مضبوط علم حاصل نہیں ہوتا؛ اس لئے اس وبا سے ذہن و دماغ سے نکالنا از حد ضروری ہے۔

پانچویں بات: یہ کہ مطالعہ کیسے کیا جائے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے اور درست و مفید علم کی بنیاد ہے، مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ کتاب ہاتھ میں لیکر بالکل یکسو ہو کر کسی ایسی جگہ پر بیٹھا جائے جہاں تشویش ذہنی کا اندیشہ نہ ہو، کتاب کے ساتھ آپ کے داہنی جانب ایک عدد کاپی اور ایک قلم بھی موجود ہو، اب ایک کام یہ کریں کہ اپنی کتاب کو ذہنی طور پر مختلف حصوں میں خواہ باب کے اعتبار سے خواہ اوراق کے حساب سے تقسیم کر دیں؛ مثلا آپ نے جس کتاب کا انتخاب کیا ہے اس میں دو سو صفحات ہیں تو اس کو بیس حصوں میں تقسیم کر دیجئے اور باری باری دس دس ورق پڑھتے جائیے، لیکن یہ خیال رہے کہ دس صفحات کے بعد اگلے دس صفحات اس وقت تک آپ نہ پڑھیں جب تک آپ کو ان دس صفحات پر مکمل یا بہت حد تک دسترس نہ حاصل ہوجائے، آپ کوشش کریں کہ آپ کے پڑھے ہوئے صفحات اس قدر آپ کے ذہن میں نقش ہوجائیں کہ آپ اب دس صفحات کی تلخیص تقریر یا تحریر کے ذریعہ کسی کے بھی سامنے رکھنے پر قادر ہوں؛ خواہ یہی دس صفحات آپ کو بار بار پڑھنے پڑیں۔

چھٹی بات: یہ کہ پانچویں بات کو آسانی سے برتنے کے لئے آپ قلم اور کاپی کا سہارا لے سکتے ہیں، وہ اس طرح کہ دوران مطالعہ جو جو باتیں اہم ہوں یا آپ کے لئے نئی معلومات کا درجہ رکھتی ہوں انہیں آپ پنسل سے نشانزد کر دیں، یا اپنی کاپی پر اس کا اشاریہ لکھ لیں اور اگر نہایت اہم ہو تو مستقل طور پر کاپی میں نوٹ کر لیں، اور اسے کاپی کے ساتھ خانہ ذہن میں بھی محفوظ کرنے کی کوشش کریں، اس انداز میں آپ دس صفحات کا مطالعہ کریں اور آخر میں اندازہ لگائیں کہ ان دس صفحات میں آپ کو کون کون سی نئی باتیں معلوم ہوئیں اور کون کون سی باتیں پہلے سے معلوم تھیں۔

ساتویں بات: یہ ہے کہ اس طرح مطالعہ کرنے اور علم کو اپنے سینے میں محفوظ کر نے کے بعد آپ دو کام کر سکتے ہیں ایک تو یہ ہے کہ آپ اس کی تلخیص تحریرا بھی کر سکتے ہیں جو دیر تک آپ کے پاس یاد داشت کے طور پر محفوظ ہوجائے گی، دوسرے یہ کہ اپنے دوست و احباب کے سامنے تقریرا اپنے مطالعے کا نچوڑ رکھ دیں؛ تاکہ انہیں بھی یہ معلومات حاصل ہوجائیں اور آپ کا مطالعہ بھی پختہ ہوجائے، یہ کام آپ دس صفحات اور چالیس پچاس صفحات کے بعد یا جیسا آپ مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں۔

آٹھویں بات: یہ کہ اس طرح مطالعہ کرنے سے اُکتاہٹ اور بے کیفی بھی پیدا ہوسکتی ہے؛ مگر علم کی پیاس میں اسے گوارا کرنے کی کوشش اور گوہر معرفت سے دامن دل کو بھرنے کی فکر اس بوجھ کو ہلکا کر سکتی ہے، نیز اگر ایسی کیفیت پیدا ہو تو آپ شروع شروع میں زیادہ نہ پڑھیں؛ بلکہ جتنا طبیعت کو گوارہ ہو اتنا پڑھیں، یا طبیعت پر زور دیکر پڑھیں مگر گاہے گاہے گشت بھی کر لیا کریں یا چائے و کافی کے دو چار کش لے لیا کریں کہ نشاط بر قرار رہے۔

نویں بات یہ کہ اس طرح کم سے کم ایک کتاب پڑھ لینے کے بعد جو علم آپ کو آئے گا اس کی خوشی کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جسے اس کا تجربہ ہے، لیکن کہیں اس طرح مطالعہ آپ کو باقی کتابیں پڑھنے سے روک نہ دے؛ اس لئے اکابر اہل علم کو اپنا آئڈیل بنائیں اور ان تک پہونچنے کی دھن میں لگے رہیں، یاد رہے کہ اونچا ہدف ہی زندگی کی علامت ہے، آپ امام ابن تیمیہ بننے کی کوشش کریں گے تو علامہ کشمیری بن پائیں گے اور علامہ کشمیری بننے کی کوشش کریں گے تو ایک متوسط عالم بن سکیں گے، اس لئے اپنے کو ہمیشہ علم کا محتاج سمجھئے۔

دسویں بات: یہ ہے کہ اصحاب ذوق، وسیع المطالعہ اور ہمہ گیر شخصیتوں کی صحبت اور ان کی گفتگو سے اپنی علمی پیاس کو بڑھایئے، دوران گفتگو جن شخصیات یا کتابوں کا ذکر آئے انہیں نوٹ کیجئے اور کم سے کم ان کتابوں کی زیارت کی ضرور کوشش کیجئے ہوسکے تو اس کتاب کا مقدمہ یا فہرست ضرور پڑھ لیجیے کہ یہ علم کی وہ کنجی ہے جو آپ کے علمی ذوق کو چار چاند لگا سکتی ہے ۔

خدا کرے! کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات